رہبر گیاوی

غزل

حضور ! میں نے تو اک لمحہ کو خطا کی ہے
یہ پوری عمر مگر آپ نے سزا کی ہے

کہا یہ منصف اعلیٰ سے اس کے پی اے نے
کسی نے کانپتے ہونٹوں سے التجا کی ہے

بغیر خون خرابے کے جشن ناممکن
یہ رسم کون سی تم نے نٸی روا کی ہے

ہمارا بال بھی بیکا کبھی نہیں ہوگا
ہمارے حق میں کسی خاص نے دعا کی ہے

خدا کی مرضی نہیں تھی شفا نہیں پایا
کہاں کہاں نہیں ہم نے دعا دوا کی ہے

ہماری ذات پہ احسان ہے بڑا اس کا

ہمارے درپہ کسی نے اگر صدا کی ہے

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started